یہ فیصلہ بزدار کی انکوائری سے مسلسل غیر حاضری کے بعد کیا گیا ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان
بزدار کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں بار بار طلب کرنے کے باوجود نیب لاہور میں
پیش نہ ہونے پر گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بزدار 14 سمن کے باوجود نیب لاہور
کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ سابق وزیراعلیٰ کی قانونی ٹیم نے استدعا کی کہ وہ (بزدار)
آج بھی پیش نہیں ہوسکتے لیکن نیب نے درخواست مسترد کردی اور وکیل کی جانب سے مزید
کوئی بات چیت کرنے سے انکار کردیا۔نیب حکام نے چیئرمین سے سابق وزیراعلیٰ کے وارنٹ
گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی۔
حال ہی میں ترمیم شدہ آرڈیننس کے تحت بزدار کو انکوائری
کے دوران بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار پر نیا آرڈیننس
لاگو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔عثمان بزدار کے اہل خانہ کے خلاف 9 ارب روپے سے
زائد کی بے ضابطگیوں کا کیس اس وقت زیر تفتیش ہے۔مزید برآں، نیب ذرائع نے بتایا کہ
گندم برآمدگی کیس زیر تفتیش ہے۔
آئی پی پی اپنے بل بوتے پر الیکشن لڑے گی، فردوس
دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کی سینئر
رہنما فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ان کی
پارٹی اپنے بل بوتے پر الیکشن لڑے گی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئی پی پی کی دیگر سیاسی
جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے افواہیں پھیلائی گئی ہیں۔ان کا مزید
کہنا تھا کہ"دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں سوچنا
بہت جلد ہے،"۔
آئی پی پی کی ترجمان فردوس عاشق اعوان کے مطابق آئی پی
پی آنے والے ہفتے میں اپنا منشور جاری کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی معیار کو پورا
کرنے کے بعد ای سی پی میں رجسٹریشن کے لیے درخواست دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن
میں بھرپور حصہ لیں گے۔
فردوس عاشق کا کہنا تھا کہ آئی پی پی کا منشور زرعی
شعبے میں انقلاب کی عکاسی کرے گا، انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی ملک کا حقیقی چہرہ
دنیا کے سامنے پیش کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم صرف بڑے دعوے نہیں کر
رہے ہیں۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں