کے پی کےمیں خودکش حملہ : 3 پولیس اہلکاروں سمیت چارافراد شہید،کئی افراد زخمی - My Analysis Breakdown

Header Ad

Ticker Ad

Home ad above featured post

جمعرات، 20 جولائی، 2023

کے پی کےمیں خودکش حملہ : 3 پولیس اہلکاروں سمیت چارافراد شہید،کئی افراد زخمی

 


متعدد زخمیوں میں عام شہری، حملے کی جگہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

ریسکیو حکام نے بتایا کہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں تحصیل کمپاؤنڈ کے دفتر میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم چار افراد شہید ہو گئے۔

ریسکیو 1122 حکام نے اب تک تین پولیس اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ عام شہریوں سمیت کم از کم نو افراد زخمی ہوئے۔ریسکیو سروسز نے بتایا کہ ایک شدید زخمی پولیس اہلکار دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا اور ایک اور لاش ملبے سے نکال لی گئی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زور دار دھماکہ کمپاؤنڈ کے مین گیٹ کے قریب ہوا، جس سے عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا اور امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے بھاری مشینری کو جائے وقوعہ پر طلب کر لیا گیا۔

ایک سینیئر پولیس افسر نے بتایا کہ دو خودکش حملہ آوروں نے کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن سیکیورٹی اہلکاروں کی ’بروقت کارروائی‘ نے حملے کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے مزید کہا، "اہلکاروں کی جانب سے فوری جوابی کارروائی میں حملہ آور مارے گئے۔" انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبرپختونخوا پولیس اختر حیات خان نے ایک مختصر بیان میں کہا، "ایک بڑا حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔"

صوبائی بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) نے بتایا کہ حملے میں دو خودکش جیکٹیں استعمال کی گئیں اور جائے وقوعہ سے دستی بم کے ٹکڑے بھی برآمد ہوئے ہیں۔ بی ڈی یو حکام نے مزید کہا کہ "دہشت گردوں نے حملے میں تقریباً 16 کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا۔"

ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ دہشت گرد سفید رنگ کی گاڑی میں کمپاؤنڈ میں پہنچے اور داخلے کی کوشش کی۔شہید پولیس اہلکاروں کی شناخت طیب اور نور بہادر کے نام سے ہوئی جبکہ زخمی پولیس اہلکاروں میں حنیف، عبدالہادی، اجمل، زبیر، نواز اور گل زیب شامل ہیں۔ زخمی شہریوں کی شناخت وارث خان اور ایم ارشد کے نام سے ہوئی ہے۔

دھماکے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ریسکیو اہلکاروں کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور زخمیوں کو قریبی طبی مراکز میں منتقل کر دیا گیا۔دھماکے کے بعد علاقے میں شدید فائرنگ کی بھی اطلاعات ہیں۔

پولیس کے ترجمان نے مزید کہا کہ جس علاقے میں دھماکہ ہوا وہاں حساس اداروں کے دفاتر واقع ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ حملے کے بعد سیکیورٹی ٹیمیں 'جوابی کارروائی' کے لیے احاطے میں داخل ہوئیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حملے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر مشتبہ افراد کو روکا اور دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر لوگوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ وہ پوری قوم کے ساتھ پولیس کے بہادر جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔


مئی میں خیبرپختونخوا پولیس لائنز میں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دو پولیس اہلکار شہید ہوگئے تھے۔پولیس کے مطابق دیگر پولیس اہلکاروں کی جوابی کارروائی کے بعد دہشت گرد فرار ہو گئے۔ حملے میں دو دیگر پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ شہید ہونے والوں میں ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) اور ایک لائن آفیسر شامل ہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے پشاور کے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس سال کے اوائل میں پشاور کی پولیس لائنز کی ایک مسجد میں نماز عصر کے دوران ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا جس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد شہید اور سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

حکام نے تصدیق کی کہ یہ خودکش حملہ تھا اور دھماکے کے وقت حملہ آور اگلی صف میں کھڑا تھا۔ پشاور کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) محمد اعجاز خان نے تصدیق کی کہ بمبار نے اپنی جیکٹ کو اس وقت دھماکے سے اڑا دیا جب سینکڑوں لوگ نماز کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Home Ad bottom