اسلام آباد — 14 فروری : بانی پی ٹی آئی
عمران خان کے علاج کا معاملہ رات گئے اچانک اس وقت ٹھپ ہوگیا جب انہیں الشفا ٹرسٹ
آئی ہسپتال منتقل کرنے کے تمام انتظامات مکمل ہونے کے باوجود یہ عمل روک دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل اور ہسپتال انتظامیہ نے رات سوا دو بجے تک تیاریاں مکمل
کر لی تھیں، تاہم علیمہ خان کی جانب سے انکار کے بعد یہ سلسلہ ملتوی کر دیا گیا۔
علیمہ خان کا کہنا ہے کہ انہیں رات کو فون آیا کہ عمران
خان کا علاج اسپتال میں کروایا جائے گا، لیکن ذاتی معالجین اور فیملی ممبران کو اس
دوران رسائی نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ان کے ڈاکٹر اور فیملی
موجود نہیں ہوں گے، وہ مطمئن نہیں ہوں گی۔ اس انکار کے بعد ہسپتال میں موجود
ڈاکٹرز اور عملہ رات ساڑھے تین بجے تک انتظار کرتا رہا، لیکن مریض کو منتقل نہ کیا
جا سکا۔
ادھر پنجاب کے مختلف شہروں بالخصوص موٹرویز پر شدید
احتجاج جاری ہے۔ سوابی اور حویلیاں انٹرچینج پر موٹر وے بند کر دی گئی ہے۔ مظاہرین
کا کہنا ہے کہ جب تک ذاتی معالج تک رسائی نہیں دی جاتی اور شفا ہسپتال میں علاج کا
عمل شروع نہیں ہوتا، احتجاج جاری رہے گا۔ لاہور کے جی پی او چوک پر بھی پولیس نے سیکیورٹی
سخت کر دی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اپوزیشن اراکین نے دھرنا دے رکھا
ہے۔ مصطفیٰ نواز کھوکر صحافیوں سمیت متعدد افراد کو پارلیمنٹ تک رسائی نہیں دی جا
رہی۔ خیال رہے کہ عدالت عظمیٰ نے 16 فروری سے قبل عمران خان کا طبی معائنہ کروانے
کا حکم دے رکھا ہے، تاہم ریٹن آرڈر موصول نہ ہونے کے باعث ابھی تک عملدرآمد نہیں
ہو سکا۔
عمران خان کی بینائی سے متعلق وکلا اور ڈاکٹرز میں تضاد
پایا جاتا ہے۔ دوستِ عدالت سلمان صفدر کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ پی ایمز کے
ڈاکٹرز نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ ان کی 85 فیصد بینائی جا چکی ہے۔ تاہم بعض حلقے اس
پر اعتبار نہیں کر رہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ بھی چرچا ہے کہ عمران خان پر خاموشی
کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، تاہم وہ تاحال اس پر راضی نہیں ہوئے۔ ادھر سائفر کیس
کی سماعت 18 فروری کو سپریم کورٹ میں مقرر ہے، جس میں بڑی پیش رفت متوقع ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے عمران خان کی رہائی کے
لیے دائر درخواست میں صرف علاج کی غرض سے نہیں بلکہ اپیلوں کے حتمی فیصلے تک سزا
معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیکل بورڈ قائم کر
لیا گیا ہے، تاہم پی ٰی آئی قیادت نے ذاتی معالجین کی شمولیت کو لازمی قرار دے دیا
ہے۔
محسن نقوی نے خبردار کیا ہے کہ اگر لاء اینڈ آرڈر کی
صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس سے نمٹا جائے گا۔ دوسری جانب مذاکرات کا عمل جاری ہے، لیکن
خاموشی کے معاملے پر ڈیل نہ بننے کے باعث صورتحال کشیدہ ہے۔
.png)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں