اسلام آباد(ویب ڈیسک)
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی اس رپورٹ کے بعد کہ ایران نے 90 فیصد یورینیم افزودگی
مکمل کر لی ہے، پوری دنیا میں ہلچل مچ گئی۔ یہ وہ سطح ہے جو ایٹمی ہتھیار بنانے کے
لیے درکار ہوتی ہے۔ اس رپورٹ نے امریکہ اور اسرائیل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
امریکہ کی پیشکش اور ایران کا صاف
انکار
امریکہ نے ایران کو پیشکش کی تھی کہ اگر بین الاقوامی ماہرین
کو ایٹمی ری ایکٹرز تک رسائی دے دی جائے، تو وہ پابندیاں ختم کرنے کو تیار ہے۔ لیکن
ایران کے وزیر خارجہ نے سخت لہجے میں اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ
ایران عراق کی طرح دھوکہ نہیں کھائے گا، جہاں معائنے کے بعد حملہ کر دیا گیا تھا۔ایران
کا مؤقف واضح ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی صرف توانائی کے حصول کے لیے کر رہا ہے،
ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے نہیں۔
پاکستان کا کردار اور امریکہ کی
مجبوری
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر
کا ایران کا دورہ انتہائی اہم ثابت ہوا۔ ایرانی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں پاکستان
کے ایران کے دفاع کے حوالے سے اہم گفتگو ہوئی۔ اس دورے کے بعد امریکہ کے لیے چین کی
مداخلت کو روکنا ناممکن ہو گیا۔
امریکی تھنک ٹینک کا اعتراف
امریکی اخبار کے مطابق تھنک ٹینکس نے تسلیم کر لیا ہے کہ ایران
کو مسلسل پابندیوں میں رکھنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پابندیاں
جاری رہیں تو ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو ہتھیاروں میں تبدیل کر سکتا ہے۔امریکہ
نے اب سفارتی پل برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور ایران کو مشروط اجازت دینے
پر غور کر رہا ہے۔
ایران کی میزائل صلاحیت
ایران نے ہزاروں کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل بنا لیے ہیں
جو اسرائیل سے لے کر یورپ تک نشانہ بنا سکتے ہیں۔ یہ میزائل ایٹمی وارہیڈ لے جانے
کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹم بھی امن کے لیے ہے، لیکن
بھارت کے خطرے کے پیش نظر پاکستان نے فرسٹ یوز نیوکلر کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں
کیا۔ پاکستان کا ایٹمی ہتھیار بھارت سے بہتر ہے اور ضرورت پڑنے پر استعمال کیا
جائے گا۔
ایران کی کامیابی
امریکہ کی سخت ترین پابندیوں کے باوجود ایران نے وہ کر دکھایا
جو کوئی اور نہیں کر سکا۔ آج ایران نہ صرف ایٹمی ٹیکنالوجی میں بلکہ میزائل ٹیکنالوجی
میں بھی خطے کی بڑی طاقت بن چکا ہے۔یہ دھماکہ صرف ایٹمی نہیں بلکہ سفارتی اور سیاسی
بھی ہے۔ امریکہ کو آج اُلٹے پاؤں بھاگنا پڑا ہے اور اسرائیل کو بچانے والا کوئی نہیں
بچا۔ ایران کا یہ دھماکہ واشنگٹن، لندن، پیرس اور تل ابیب میں سنا گیا ہے۔
.jpg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں