ایران اورامریکہ ،اسرائیل کے مابین جنگ ابھی تک ختم
نہیں ہوئی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ جنگ مزیدبڑھ رہی ہے ۔ مشرق وسطیٰ ایک
بار پھر جنگ کی آگ میں جل رہا ہے۔ تنازعہ اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ کوئی اس کا
اندازہ بھی نہیں لگا سکا۔ جو چیز چھوٹے پیمانے پر جھڑپوں سے شروع ہوئی تھی، وہ اب
تیزی سے ایک بڑے علاقائی بحران میں بدل رہی ہے۔
ایران
نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے نیا حملہ
کیا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایران کے ریڈار سسٹمز کو تباہ کر دیا ہے، لیکن
ایران کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں سے بھاری نقصان ہوا ہے۔ بحرین اور کویت میں جنگی
سائرن بجنے سے لوگ خوفزدہ ہو کر پناہ گاہوں کی طرف بھاگنے لگے، جو اس بات کا ثبوت
ہے کہ خطرہ کتنا سنگین ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے واضح کر دیا کہ ان کا نشانہ صرف
وہ امریکی اڈے ہیں جو ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، ہمسایہ ممالک سے
ان کا کوئی اختلاف نہیں۔
یہ
جنگ صرف ایک جگہ تک محدود نہیں رہی۔ اسرائیل مبینہ طور پر لبنان اور عمان پر حملوں
میں ملوث ہے۔ کل عمان میں ہونے والا ایک واقعہ اسرائیلی سازش لگ رہا ہے۔ امریکہ نے
ایک جہاز کو بھی روک لیا اور ایران پر الزام لگایا کہ وہ عمان کے نام پر خفیہ طور
پر ایل این جی (قدرتی گیس) بیچ رہا ہے، جس کے بعد نئی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
لگتا ہے کہ عمان کو ایران سے تعلقات کی سزا دی جا رہی ہے۔
دنیا
کی اہم ترین آبی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، ایک بار پھر تنازعے کی زد میں ہے۔ دونوں طرف
سے میزائل داغے جا رہے ہیں اور پانیوں میں امریکی پابندیوں کی وجہ سے توانائی کی
عالمی سپلائی کو خطرہ لاحق ہے۔
صورتحال بہت تشویشناک ہے اور کوئی بھی فریق پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ اگر اسرائیل براہ راست اس جنگ میں کود پڑا، تو صورتحال بے قابو ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کا واحد حل یہ ہے کہ خلیجی ممالک مل کر ایران کے ساتھ آزادانہ مذاکرات کریں۔ اگر امریکہ اور اسرائیل کو اس سے باہر رکھ کر کوئی راستہ نکال لیا جائے، تو شاید جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو کھولا جا سکے۔ لیکن اگر ممالک فریق بن کر امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دیتے رہے، تو یہ جنگ قیامت تک چلتی رہے گی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں