سپریم کورٹ سے عمران خان کو بڑی قانونی ریلیف، حکومت کی درخواستیں مسترد - My Analysis Breakdown

Header Ad

Ticker Ad

Home ad above featured post

پیر، 9 فروری، 2026

سپریم کورٹ سے عمران خان کو بڑی قانونی ریلیف، حکومت کی درخواستیں مسترد

سپریم کورٹ سے عمران خان کو بڑی قانونی ریلیف، حکومت کی درخواستیں مسترد


 اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ عمران کے خلاف زیرِ سماعت اہم مقدمات کی سماعت مکمل ہو گئی۔ سماعت کے بعد عمران خان کے وکیل سلمان صفدر اور اہلِ خانہ عدالت سے باہر آئے اور میڈیا سے گفتگو کی۔

تفصیلات کے مطابق، آج سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے عمران خان اور بشریٰ عمران سے متعلق 14 مقدمات کی سماعت کی۔ کاز لسٹ میں شامل تمام مقدمات میں صرف عمران احمد خان اور ان کی اہلیہ کے نام درج تھے۔ ان مقدمات میں سائفر کیس، القادر ٹرسٹ کیس، توشہ خانہ کیس اور مختلف ایف آئی آرز شامل تھیں۔

وکیلِ صفائی سلمان صفدر نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت نے ان تمام مقدمات میں ضمانت منسوخی کی درخواستیں دائر کر رکھی تھیں، جن میں ماضی میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے عمران خان کو ریلیف مل چکا تھا۔ تاہم آج سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے دائر کی گئی تمام ضمانت منسوخی کی درخواستیں غیر مؤثر قرار دے کر خارج کر دیں۔

سلمان صفدر کے مطابق سائفر کیس میں ایف آئی اے اور اسپیشل پراسیکیوٹرز اسلام آباد ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کے خلاف اپیل کرنا چاہتے ہیں، جس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو بری کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ نے حکومت کو مزید ہدایات لینے کے لیے وقت دے دیا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ اس وقت عمران خان کی نمائندگی 300 سے زائد فوجداری مقدمات میں کر رہے ہیں، جن میں سے تقریباً 50 معاملات اس وقت فعال ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ضمانت کی درخواستیں برسوں سے زیرِ التوا ہیں، جن پر فیصلے نہیں ہو رہے، جو نظامِ انصاف پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

سلمان صفدر نے الزام عائد کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں شدید جمود کی کیفیت ہے، جہاں نہ مقدمات مقرر ہو رہے ہیں اور نہ ہی وکلاء کو مؤکل سے ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ میں عمران خان اور بشریٰ عمران سے صرف ایک مختصر ملاقات ممکن ہو سکی، جو قانونی تیاری کے لیے ناکافی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وکیل اور مؤکل کے درمیان ملاقات نہ ہونا آئینی حق کی خلاف ورزی ہے۔ وکیل نے چیف جسٹس پاکستان سے درخواست کی کہ یا تو مقدمات فوری طور پر مقرر کیے جائیں یا قانونی ٹیم کو اپنے مؤکل سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ دفاع مؤثر انداز میں کیا جا سکے۔

سلمان صفدر نے عمران خان کی صحت پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی آنکھوں کے علاج اور مجموعی صحت کے حوالے سے وکیل کو کوئی باضابطہ آگاہی نہیں دی گئی، جو تشویشناک ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مؤکل کی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رکھنا بھی وکیل کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔

آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ میں انصاف کی فراہمی ممکن ہوگی اور آئندہ سماعتوں میں قانونی ٹیم کو مکمل رسائی اور مساوی مواقع دیے جائیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Home Ad bottom