قومی اسمبلی سے استعفٰے شروع، اخترمینگل مستعفی،خان سے ملاقات لسٹ میں نامعلوم نام مگرکیوں؟ - My Analysis Breakdown

Header Ad

Ticker Ad

Home ad above featured post

بدھ، 11 فروری، 2026

قومی اسمبلی سے استعفٰے شروع، اخترمینگل مستعفی،خان سے ملاقات لسٹ میں نامعلوم نام مگرکیوں؟


11 فروری 2026، بدھ: قومی اسمبلی میں استعفے کی منظوری، عدالتی رپورٹ التوا، اور سیاسی تجزیے

اسلام آباد: پاکستانی سیاست میں آج بدھ کے روز کئی اہم پیش رفت سامنے آئی ہیں۔ ایک طرف قومی اسمبلی میں نواب اختر مینگل کا 18 ماہ پرانا استعفیٰ منظور کر لیا گیا، تو دوسری طرف سپریم کورٹ میں عمران خان کی طبی رپورٹ جمع نہ ہو سکی۔ سیاسی تجزیہ نگاروں اور صحافیوں کی جانب سے صورتحال پر مختلف زاویوں سے گفتگو کی جا رہی ہے۔

اختر مینگل کا استعفیٰ: 18 ماہ بعد منظوری، کیا ہیں مضمرات؟

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ اور حلقہ این اے 256 خضدار سے منتخب رکن قومی اسمبلی نواب اختر مینگل کا استعفیٰ آج سپیکر قومی اسمبلی نے منظور کر لیا۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ استعفیٰ آج یا کل کا نہیں، بلکہ 3 ستمبر 2024 کو دیا گیا تھا۔ گزشتہ 18 ماہ سے یہ استعفیٰ فائلوں میں دبا رہا، اور آج جا کر اسے منظور کیا گیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، استعفے کی منظوری کے وقت کا تعلق حالیہ بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں اور بین الاقوامی ردعمل سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں بلوچستان کے بارہ مقامات پر بیک وقت ہونے والے حملوں کے بعد وال سٹریٹ جرنل سمیت بین الاقوامی میڈیا نے صوبے میں غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ سرمایہ کاری پر اثرات سے خبردار کیا تھا۔

اختر مینگل: روایتی سیاست سے علیحدگی یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نیا سودا؟

نواب اختر مینگل ان چند بلوچ رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جو کھل کر علاحدگی پسندی کی حمایت تو نہیں کرتے، مگر ان سے ہمدردی رکھتے نظر آتے ہیں۔ تاہم، ماضی میں ان کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعاون بھی عیاں رہا ہے۔ اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی میں ان کا کردار اہم تھا۔

دوسری طرف، نوجوان رہنما مارنگ بلوچ اور دیگر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ان کی گرفتاریوں نے روایتی سرداروں پر عوامی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ عوام کی نظر میں جیل میں بند مارنگ بلوچ ہیرو ہیں یا اسمبلی میں بیٹھے اختر مینگل؟ اس سوال نے شاید مینگل صاحب کو پاپولسٹ سیاست کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس لیے اس استعفے کو محض ایک آزادانہ فیصلہ نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفادات کی ہم آہنگی کا نتیجہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

عمران خان کی طبیعت: آنکھ کی خرابی، رپورٹ جمع نہ ہو سکی

سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طبی رپورٹ جمع کرانے کا مرحلہ آج بھی مکمل نہ ہو سکا۔ ہماری ریکارڈنگ کے وقت دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک بیرسٹر سلمان صفدر رپورٹ جمع نہ کرا سکے تھے۔

ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی اور ان کے خاندان کو آفیشلی طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے کہ عمران خان کی آنکھ میں لگائے گئے انجیکشن کے بعد دس فیصد بھی افاقہ نہیں ہوا اور بینائی مزید خراب ہو رہی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق، انہیں فوری طور پر کسی ہسپتال میں منتقل کر کے علاج کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ افریدی نے ممکنہ طور پر اسی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر کو عدالت کا دوست (فرینڈ آف کورٹ) مقرر کر کے جیل بھیجا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ رپورٹ ملنے کے بعد عدالت ہوش کا ناخن لیتی ہے یا صورتحال مزید خراب ہوتی ہے۔

صحافیوں کی عجیب روش: سہیل وڑائچ کا متنازعہ بیان

معروف صحافی سہیل وڑائچ کے ایک بیان پر شدید تنقید سامنے آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "عمران خان کی رہائی اگر بغیر کسی شرط کے ہوتی ہے تو اس کا مطلب پورے نظام کا بستر گول کرنا ہے اور اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا ہے۔"تجزیہ کاروں کے مطابق، ایک صحافی کا فرض قانون اور آئین کے مطابق انصاف کی حمایت کرنا ہے، نہ کہ کسی کی رہائی کو نظام کی تباہی سے جوڑ کر اداروں کو ڈرانے دھمکانے کا کردار ادا کرنا۔ اس طرح کے بیانات صحافت کے اصولوں کے منافی ہیں۔

پی ٹی آئی کی حکمت عملی پر سوال: جونیئرز کی فہرست، سینئرز کو کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے؟

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے ایک بڑی شکایت سامنے آ رہی ہے۔ گزشتہ 5 ماہ سے عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی ہے، مگر جب بھی ملاقاتوں کی فہرست جاری کی جاتی ہے، اس میں غیر معروف اور جونیئر ترین کارکنان کے نام شامل ہوتے ہیں۔شاہ فرمان، اعظم سواتی، سینیٹرز، اور دیگر سینئر رہنماؤں کے نام فہرست میں شامل نہیں کیے جاتے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر سینئر رہنما جیل جائیں اور ان کی ملاقات نہ ہو، تو وہ جیل کے باہر کھڑے ہو کر میڈیا سے بات کریں گے، بیانیہ بنے گا اور دباؤ بڑھے گا۔ جونیئر کارکنان کی فہرست دے کر یہ دباؤ خودکش بنایا جا رہا ہے۔پی ٹی آئی قیادت سے گزارش ہے کہ وہ اس حکمت عملی پر نظر ثانی کرے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Home Ad bottom