امریکہ کا F-15 جیٹ ایران کے حملے میں تباہ، ڈرون وار میں امریکی دفاع ناکام - My Analysis Breakdown

Header Ad

Ticker Ad

Home ad above featured post

پیر، 2 مارچ، 2026

امریکہ کا F-15 جیٹ ایران کے حملے میں تباہ، ڈرون وار میں امریکی دفاع ناکام




خلیجی علاقہ / واشنگٹن)3 مارچ 2026(پوری دنیا کی نگاہیں اس وقت خلیجی خطے پر لگی ہیں جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے ایک نئی خونریز صورت اختیار کر لی ہے۔ گزشتہ دو دنوں میں ہونے والی جھڑپوں نے پوری خطے کی سیاسی اور عسکری صورتحال کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔

امریکی F-15 جیٹ گر گیا، پائلٹ محفوظ

سب سے پہلی اور اہم خبر یہ ہے کہ امریکہ کا جدید ترین F-15 جنگی طیارہ کویت میں گر کر تباہ ہو گیا۔ جاری ہونے والی فوٹیج میں دکھا یا گیا ہے کہ کس طرح یہ طیارہ ہوا میں موجود ہے اور اچانک گرتا ہوا نیچے آیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس کا پائلٹ بحفاظت باہر نکل گیا اور زندہ ہے۔پائلٹ کے بچنے کے بعد جب اسے لے جایا گیا تو کویتی پولیس نے موقع پر پہنچ کر اسے آکسیجن ماسک لگایا اور بار بار "ون منٹ، ون منٹ" کہہ کر اس کی مدد کرنے کی کوشش کی۔

کس نے گرایا؟ ایران کا دعویٰ، امریکہ خاموش

اب تک کی اطلاعات کے مطابق، ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ طیارہ ایران نے مار گرایا ہے۔ تاہم، ایرانی حکومت کی طرف سے ابھی کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے اس واقعے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اگر یہ کہے کہ یہ تکنیکی خرابی تھی تو اس پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ جدید ترین جنگی طیارے، خاص طور پر ایف 15 جیسے جیٹ، جنگ کے میدان میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے نہیں بھیجے جاتے۔ امریکہ اس وقت خاموش ہے کیونکہ اسے اندازہ ہو گیا ہے کہ ایران کے پاس وہ صلاحیت موجود ہے جس کا انہوں نے اندازہ نہیں لگایا تھا۔

بحرین میں امریکی اڈے پر حملہ، بڑے پیمانے پر تباہی

ادھربحرین میں  امریکی نیوی بیس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ دھماکوں کے بعد پوری بیس میں افراتفری پھیل گئی۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک میں مختلف مقامات پر زوردار دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔

چین کا بیڈو سیٹلائٹ اور 'گھوسٹ ڈرونز' کا معجزہ

ماہرین کے مطابق، ایران نے اس جنگ میں چین کے بیڈو سیٹلائٹ سسٹم کو استعمال کر رہا ہے۔ یہ سیٹلائٹ انہیں جی پی ایس جیمنگ (GPS jamming) سے بچاتا ہے۔ اس کی مدد سے ایران جو ڈرونز اور میزائل استعمال کر رہا ہے، وہ انرشیل گائیڈنس کے ذریعے اپنے ہدف کو پہنچتے ہیں اور بیرونی مداخلت ان پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ان ڈرونز کو 'گھوسٹ ڈرونز' کا نام دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ریڈار کو بائی پاس کرتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچتے ہیں اور ان کو روکنا تقریباً ناممکن ہے۔ یہ ڈرونز ون وے مشن پر آتے ہیں، حملہ کرتے ہیں اور تباہی مچا کر چلے جاتے ہیں۔

امریکی دفاعی نظام ناکام، مہنگے میزائل ضائع

امریکہ ان ڈرونز کو روکنے کے لیے پانچ پانچ ملین ڈالر مالیت کے میزائل استعمال کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو امریکہ کے پاس جلد ہی میزائل ختم ہو جائیں گے۔ سو ڈرونز میں سے نوے بھی اگر مار گرائے جائیں، تو دس ڈرونز اتنی تباہی مچا سکتے ہیں جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

خلیجی ممالک میں سنسنی: پروازیں منسوخ، سرمایہ کاری خطرے میں

اس صورتحال کی وجہ سے خلیجی ممالک میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ قطر اور کویت سمیت متعدد ممالک میں فلائٹ آپریشن منسوخ کر دیے گئے ہیں، جس سے بزنس کمیونٹی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ان ممالک میں 80 فیصد آبادی غیر ملکی ایکسپیٹس پر مشتمل ہے۔ اگر ڈرونز نے انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا، خاص طور پر واٹر انفراسٹرکچر، تو لاکھوں نہیں کروڑوں لوگ پانی کے بغیر رہ جائیں گے۔ مزید برآں، ریئل اسٹیٹ اور انویسمنٹ کا بیڑا گرک ہو رہا ہے۔ خاص طور پر ٹرمپ کی خلیج میں بڑی سرمایہ کاری ہے، جس سے وہ خود بھی شدید پریشان ہیں۔

اسرائیل بھی نشانے پر، غزہ جیسی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ

اسرائیل میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی شہروں پر بھی ڈرونز سے حملے کیے جا رہے ہیں، جس سے وہاں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اسرائیل میں بھی غزہ جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

غداروں کا مسئلہ اور ایرانی قیادت کی تبدیلی

ایران کے اندر غداروں کی کمی نہیں، اور وہ وقتاً فوقتاً ان کے لیڈروں کو شہید کروا دیتے ہیں۔ لیکن ایران کا اندازِ جنگ یہ ہے کہ وہ ہر حملے کا منہ توڑ جواب دیتا ہے۔ جس طرح انہوں نے اسرائیل اور امریکہ کے اڈوں کو تباہ کیا ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے دن مزید خونریز ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کے پاس آپشنز محدود، ٹرمپ مذاکرات پر مجبور

امریکی جرنیلوں، جوائنٹ چیفس اور سینٹ کام چیف نے ٹرمپ کو بار بار خبردار کیا تھا کہ یہ جنگ نہ چھیڑیں، ورنہ یہ ان کے گلے پڑ جائے گی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ خلیجی ممالک کی حفاظت نہیں کر پا رہا، پروازیں منسوخ ہو رہی ہیں، ہوٹل اور بلڈنگز تباہ ہو رہی ہیں اور عوام میں خوف پھیل رہا ہے۔

ایسی صورتحال میں ٹرمپ مذاکرات کی طرف دیکھ رہے ہیں اور ایران سے بات چیت کا پیغام دے رہے ہیں۔ لیکن ایران نے اب تک کوئی نرمی نہیں دکھائی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ لڑائی چھوڑ دیتے ہیں تو ان کے لیے کوئی سروائیول آپشن نہیں بچے گا۔

آنے والے دن طے کریں گے کہ یہ جنگ کس نتیجے پر پہنچتی ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے جو سوچا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر کو مارنے سے معاملہ ختم ہو جائے گا، ایسا نہیں ہوا۔ ایرانی قوم اور اس کے اگلے لیڈر تیار بیٹھے ہیں اور پوری خلیجی ریجن میں تباہی کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔آنے والے وقت میں دیکھتے ہیں کیا بنتا ہے، لیکن یہ صورتحال بہت تباہ کن ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Home Ad bottom