سپریم
کورٹ کے باہر زمین پر بیٹھے منتخب نمائندے، جیل میں قائدعمران خان، اور حکمت عملی
کی نئی راہیں: کیا بن رہا ہے نیا سیاسی محاذ؟
اسلام
آباد / پشاور (23 فروری 2026) پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آج ایک نیا باب لکھا جا
رہا ہے۔ جہاں ایک طرف سپریم کورٹ آف پاکستان کے باہر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی
آئی) کے منتخب پارلیمنٹیرینز اور عوامی نمائندے زمین پر بیٹھ کر احتجاج کر رہے ہیں،
وہیں دوسری طرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں خراب صحت اور ان سے ملاقاتوں
پر پابندی کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
اس
موقع پر ہم نے گفتگو کی خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان شفی جان صاحب سے، جنہوں نے
صورتحال کی سنگینی اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔سپریم کورٹ کے
باہر منتخب نمائندے کیوں بیٹھے ہیں؟شفیع جان صاحب نے بتایا کہ آج جو کچھ ہو رہا
ہے، وہ محض ایک سیاسی احتجاج نہیں بلکہ آئین اور انصاف کا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق:
"یہاں پہ بکتر بند گاڑیاں ہیں، قیدیوں والی گاڑیاں ہیں، پولیس
ہے، نفری ہے۔ لیکن پاکستان تحریک انصاف کے عوامی منتخب نمائندے زمین پر بیٹھے ہیں۔
معاملہ انصاف کا ہے، معاملہ حق کا ہے، معاملہ ایک قیدی سے ملاقات کا ہے۔"انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ عمران خان
کے کیسز کو لگایا جائے، انہیں سنا جائے، ان کی صحت کے حوالے سے ان کے ذاتی ڈاکٹر
کو رسائی دی جائے اور خاندان کے مطالبات مانے جائیں۔
دوہرا
معیار: ایک شہری کو انصاف، قائد کو کیوں نہیں؟
ترجمان
نے عدالتی نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب خیبرپختونخوا کے عوام نے صحت کی تشویش
پر سڑکوں پر احتجاج کیا اور شاہراؤں کو بند کیا، تو اسی اثنا میں ایک شہری نے پشاور
ہائی کورٹ میں درخواست دے دی۔"وہ پیٹیشن اسی دن لگی، اسی دن سنی گئی، اسی دن
فیصلہ آ گیا، آئی جی کو بلایا گیا اور 24 گھنٹے میں عملدرآمد کے احکامات جاری کر دیے
گئے۔"
انہوں
نے شکوہ کیا کہ دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں 16 سے زائد
درخواستیں صحت اور ملاقاتوں کے حوالے سے پڑی ہیں، جنہیں نہیں سنا جا رہا۔"یہاں
سے آپ اندازہ لگا لیں کہ جہاں تحریک انصاف کے خلاف کوئی چیز ہو، فوراً سن لیا جاتا
ہے اور عملدرآمد بھی ہوتا ہے۔ لیکن جہاں تحریک انصاف آئینی یا قانونی راستے سے کچھ
حاصل کرنا چاہتی ہے، وہ راستہ بند کر دیا جاتا ہے۔"
سیاسی
سپیس ختم، کیا اب عوام کو نکلنا پڑے گا؟
شفی
جان صاحب نے تسلیم کیا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی سپیس تقریباً ختم کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدترین آمریت میں بھی پارلیمنٹیرینز کے ساتھ ایسا سلوک نہیں دیکھا
گیا۔"خیبرپختونخوا ہاؤس کے گیٹ بند کیے گئے، سینٹ پارلیمنٹ لاجز کے گیٹ بند کیے
گئے، نیشنل اسمبلی میں لوگوں کو تالے لگا کر بند کیا گیا، سینیٹرز کو سینٹ کے اندر
محصور کیا گیا۔"ان کا کہنا تھا کہ تبدیلی کے لیے عوام کو خود نکلنا پڑے گا۔"عام عوام جب تک نہیں نکلیں گی، جب تک بڑی تعداد میں سڑکوں
پر نہیں آئیں گی، اس وقت تک جو گولز ہیں وہ اچیو نہیں ہو سکتے۔"
'رہائی فورس' کیا ہے؟ کیا یہ سیاسی جماعت ہوگی؟
سہیل
افریدی صاحب کی جانب سے 'رہائی فورس' بنانے کے اعلان کے بعد حکومتی کیمپ میں ہلچل
مچی ہوئی ہے۔ شفی جان صاحب نے واضح کیا کہ یہ فورس سیاسی جماعت نہیں ہوگی بلکہ اس
کا واحد مقصد عمران خان کی رہائی ہے۔"یہ فورس آئینی اور قانونی ہوگی۔ اس کی
ممبرشپ ہوگی، سٹرکچر ہوگا، چین آف کمانڈ ہوگا۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں
جن کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں، لیکن وہ عمران خان کی رہائی چاہتے ہیں۔"
انہوں
نے کہا کہ سہیل افریدی ایک قومی رہنما کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ لاہور میں کرفیو
لگانا پڑا، کراچی کا باغ جم پیک ہو گیا، پنجاب میں لوگ انہیں وزیراعلیٰ سمجھنے لگے
تھے۔
کنٹینر
سے جہاز تک: حکمرانوں کی تیاریاں
شفیع
جان صاحب نے حکمرانوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جہاں عوام غربت کا شکار ہے،
وہیں حکمران جہاز خرید رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا:" پی آئی
اے 10 ارب میں بکی، 28 جہاز تھے اس میں۔ اور 11 ارب میں میڈم رانی نے ایک جہاز خرید
لیا کیونکہ وہ پاپا کی رانی ہے۔ زرداری جہاز لے گئے، شہباز شریف لے گئے۔ مزید 20
ارب کے جہاز کی خبریں ہیں۔"
ان
کا کہنا تھا کہ یہ جدید ٹیکنالوجی والے جہاز اس لیے خریدے جا رہے ہیں کہ جب بھاگیں
تو اپنے جہازوں پر بھاگ سکیں۔"پنجاب کی عوام کو سوچنا ہوگا کہ ڈیڑھ کروڑ بچے سکولوں سے
باہر ہیں، نو سو افراد قتل ہو چکے ہیں، مرے عدالت ہو گئے ہیں، جی ٹی پی روڈ کی نچلی
ہے، اور یہ لوگ جہاز خرید رہے ہیں۔"
مستقبل
کا سیاسی محاذ: کون کون شامل ہو سکتا ہے؟
ایک
اہم سوال کے جواب میں شفی جان صاحب نے اشارہ دیا کہ مستقبل قریب میں کئی سیاسی
جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر آ سکتی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر رزوی برادران (سعاد رزوی
اور عرفان رزوی) کا ذکر کیا۔"مجھے کافی دنوں سے ان کے کارکنان اور کچھ
رہنماؤں نے رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر یہ دونوں جماعتیں ایک پیج پر، ایک کنٹینر
پر آ جائیں تو ملکی حالات بہت جلد ٹھیک ہو سکتے ہیں۔"
ان
کے مطابق ان لوگوں کے پاس پاور سٹیٹ ہے اور وہ اس حکومت کے خلاف اپنا رول پلے کرنا
چاہتے ہیں۔"جو بھی اس حکومت کے خلاف اپنا رول پلے کرنا چاہتی ہے، تحریک انصاف
ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ لیکن شرط یہ ہے کہ عزائم اور نیت ان کی ٹھیک ہونی چاہیے۔"
ٹی
ایل پی کا کیا ہوا؟
ٹی
ایل پی کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ایک پریس کانفرنس میں پارٹی ختم
ہو گئی۔"ان کے جی ڈیز اس وقت آف دی اسکرین ہیں، ان کا پتہ نہیں لگ رہا۔
ایک ہی پریس کانفرنس میں سب نے ٹی ایل پی چھوڑ دی۔"
عمران
خان کی صحت: کیا ہسپتال منتقل کیا جائے گا؟
آخر
میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کل یا پرسوں عمران خان کو کسی ہسپتال میں منتقل کیا
جا رہا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ابھی کچھ حتمی نہیں بتایا جا سکتا، لیکن
ایک مہینے کے بعد دوسرا پراسیجر کروایا جانا ہے۔"ہماری حکمت عملی یہی ہے کہ
عمران خان کی صحت کو یقینی بنایا جائے اور ان کے کیسز کو لگایا جائے۔ باقی سب کچھ
اس کے بعد ہے۔"
ایسا
لگتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی صورتحال ایک نئے موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ جہاں ایک طرف
سپریم کورٹ کے باہر منتخب نمائندے احتجاج کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف 'رہائی فورس'
بن رہی ہے اور کئی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر آنے کی خواہاں ہیں۔ آئندہ چند دن طے
کریں گے کہ یہ احتجاج کس نتیجے پر پہنچتا ہے اور کیا واقعی ایک کنٹینر، ایک پلیٹ
فارم پر تمام اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہو سکتی ہیں۔وقت کی رفتار تیز ہے، دیکھتے ہیں
آگے کیا ہوتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں