کپتان نے سب سے بڑا کارڈ کھیل دیا، آئین کے مطابق انتخابات کے اعلان
کااختیار صدر کے پاس
پی ڈی ایم کا خیال
ہے کہ پتے اس کی جیب میں ہیں اور یہ سب طے کریں گے ایسا نہیں ہے بلکہ سارے پتےعمران
خان کی جیب میں ہیں اور وہی طے کریں گے کل کے پی کے کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلاکرجو
بھی اعلامیہ جاری کیا گیا اور اس کے بعد یہ کہا جانا کہ ہم الیکشن نہیں کرائینگے آج
عمران خان کا اصل کارڈ بھی سامنے آگیا ہے۔ میں کچھ ایسے حقائق آپ کے سامنے رکھوں گا
جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ گیم ان کے ہاتھ میں نہیں ہے یہ جو مرضی کرلیں الیکشن کا
اعلان ہوگا اور یہ عمران خان کے ذریعے ہوگا عمران خان کا کھلاڑی کرے گا یہ اختیارصدر
پاکستان کے پاس کیسے ہیں یہ بتانے سے پہلے میں آپ کو اصل چیزبتاتا ہوں کہ جو 2017 کا
ایکٹ ہے اس نے صدر پاکستان کو وہ اختیارات
دیے ہوئے ہیں جوپی ڈی ایم اور طاقتوروں کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہیں۔
صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے آج چیف الیکشن کمشنر
کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان
کریں کیونکہ آئین اس چیز کی اجازت نہیں دیتا صدر پاکستان نے ایکٹ 2017 کا حوالہ دیا
ہے اور اس کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ اس ایکٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی اسمبلیوں
کے انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کیا جائے الیکشن کمیشن پنجاب اور خیبرپختونخوا
کے صوبائی اسمبلیوں کےلیے انتخابی شیڈول جاری کرے تاکہ صوبائی اور مستقبل کے عام انتخابات
کے حوالے سے خطرناک قیاس آرائیوں پر مبنی پروپیگنڈے کو ختم کیا جائے۔صدرپاکستان نے
آئین کے آرٹیکل 224 کا حوالہ دیا جس کے تحت اسمبلی کے تحلیل ہونے کے بعد انتخابات
90 دن کے اندر ہونے کے اوپر بات کی گئی ہے اس کے علاوہ آئین کے آرٹیکل 218 کلاس تھری
کا حوالہ دیا گیا ہے جو الیکشن کمیشن کو صاف شفاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کو
یقینی بنانے کے اختیارت تفویض کرتا ہے صدر نے کہا کہ دیکھیں اگر الیکشن کمیشن اپنے
فرائض کی ادائیگی کے اندرناکام رہا توآئین کے مطابق آخرکار کمیشن کو ہی آئین کی خلاف
ورزی کا ذمہ دار اور جواب دے قرارٹھہرایا جائے گا اور اس کے ذمہ دار بھی آپ ہی ہونگے
اورجواب بھی آپ کو دینا پڑے گا صدر نے مزید کہا
کہ سربراہ مملکت ہونے کی حیثیت سےآئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف لیا ہوا ہے۔
صدر نے صرف چیف الیکشن
کمشنرنہیں بلکہ ان کے دو ارکان کو بھی آئین کے تحت ان کے حلف کی بنیادی ذمہ داری
کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ آپ کواگر سنگین نتائج سے بچنا ہےتواس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ فوری طور پرالیکشن کروائے جائیں۔اس
سلسلے میں صدر مملکت نے آئین کی تمہید کا حوالہ دیا اوراس کے علاوہ قرارداد مقاصد کا
بھی حوالہ دیا جس کےتحت آپ کے ارکان کےخلاف
استعمال ہونا ہوتا ہے۔ صدر نے امریکی تاریخ کا حوالہ دیا اور کہا کہ جب جب الیکشن
تاخیر کا شکار کیے گئے اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچا اوران کے مطابق ملک میں ایسے حالات
نہیں ہیں جس سے انتخابات ملتوی کیے جائیں اورتاخیرکا جواز فراہم کیا جائے صدر پاکستان
نے امریکی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے دو مواقعوں کی بات کی جب امریکہ کےاندر جنگ کی
صورتحال تھی 1812 جب برطانیہ اور امریکہ کے درمیان جنگ تھی اس کے باوجود الیکشن کروائے
گئے اس کے علاوہ 1864 کےدوران خانہ جنگی ہورہی تھی اور صدر ابراہام لنکن نے انتخابات
کروائے اورکسی نے بھی انتخابات کے ملتوی یا
معطل کرنے کا نہیں سوچا۔یہ ایک خبر ہے کہ صدر پاکستان نے الیکشن کمیشن سے کہا
ہے کہ آپ الیکشن کروائیں ۔ بنیادی طور پر آج
صدرنے ان کو ایک موقع دیا اب سب سے بڑا کارڈ صدر کے پاس ہے صدر نہ سکندرسلطان
راجہ کا انتظارکریں گے اورنہ عدالتوں کے فیصلوں کا انتظار کریں گے بلکہ وہ خود ہی الیکشن
کے انعقاد کا اعلان کردیں گے۔ پاکستان کے اندرایک ادارہ "ٹل دیٹ " ایک ادارہ
ہے جو انتخابی عمل کو دیکھتا ہے اس کے سربراہ احمد بلال محبوب نے بتایا ہے کہ الیکشن
ایکٹ 2017 کے مطابق صدر پاکستان الیکشن کے
انعقاد کی تاریخ کا اعلان کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں الیکشن کمیشن یا کسی کا بھی
کوئی انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں